ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / وقف بورڈ چیرمین ڈاکٹر یوسف کی میعاد مکمل؛اوقافی امور میں تعاون کیلئے چیرمین روشن بیگ ، رحمن خان اور دیگر قائدین کے ممنون

وقف بورڈ چیرمین ڈاکٹر یوسف کی میعاد مکمل؛اوقافی امور میں تعاون کیلئے چیرمین روشن بیگ ، رحمن خان اور دیگر قائدین کے ممنون

Sat, 20 Aug 2016 12:04:20    S.O. News Service

بنگلورو19؍اگست(ایس او نیوز؍عبدالحلیم منصور)ریاستی وقف بورڈ کے چیرمین ڈاکٹر محمد یوسف کی میعاد آج وقف بورڈ کی موجودہ میعاد کے ساتھ مکمل ہوگئی۔ بحیثیت وقف بورڈ چیرمین آج اپنی آخری پریس کانفرنس میں انہوں نے پچھلے دو سال تین ماہ کے دوران ریاست میں تحفظ اوقاف پر ترقی کیلئے ان کی طرف سے کی گئی کوششوں میں تعاون کرنے والے تمام افراد کا شکریہ ادا کیا۔ خاص طور پر ریاست میں اوقافی املاک کے تحفظ کو یقینی بنانے میں ریاستی وزیر برائے شہری ترقیات وحج جناب روشن بیگ اور رکن راجیہ سبھا ڈاکٹر کے رحمن خان کی رہمائی اور ہمہ وقت تعاون کا انہوں نے شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے بتایاکہ پانچ سال قبل جب وہ وقف بورڈ کے ممبر نہیں تھے تو انہیں اوقاف کے بارے میں کچھ بھی پتہ نہیں تھا، لیکن وقف بورڈ میں آنے کے بعد اوقافی مسائل سے واقفیت کے ساتھ غیر قانونی قبضوں میں جاچکی اوقافی املاک کو واپس حاصل کرنے میں بھی انہوں نے کافی جدوجہد کی ہے۔تمام کے تعاون سے ان کوششوں میں انہیں کچھ حد تک ضرور کامیابی ملی ہے۔پچھلے ڈھائی سال کے دوران وقف بورڈ نے 301480 مربع فیٹ اوقافی زمین پر اپنے قبضہ حال کرایا ہے۔ آنے والے دنوں میں بھی اگر اسی طرح تعاون حاصل رہا تو اوقافی املاک کو اور زیادہ ترقی دینے اور غیر قانونی قبضوں میں جاچکی املاک کو دوبارہ حاصل کرنے کی جدوجہد کو شد ت کے ساتھ آگے بڑھایا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ اوقافی املاک پر غیر قانونی قبضوں کو ہٹانے میں انہوں نے جو مہم شروع کی اسے کامیاب بنانے میں جناب روشن بیگ نے بھرپور تعاون کیا ، خاص طور پر بلہلی میں حضرت مانک شاہ درگاہ کی 602 ایکڑ زمین پر قبضے کیلئے ریاستی کابینہ میں منظوری کے مرحلے میں جناب روشن بیگ نے اس کی کھل کر مخالفت کی اور حقائق سے وزیراعلیٰ کو آگاہ کروایا ، جس کی بدولت بلہلی کی زمین پر سرکاری قبضہ ہوتے ہوتے رہ گیا۔ اسی طرح مرغ ملہ کی درگاہ حضرت فقیہہ شاہ ولی کے ارد گرد 250 سے زائد غیر قانونی دکانیں موجود تھیں، بحیثیت ضلع انچارج وزیر چکبالاپور جناب روشن بیگ نے ان دکانوں کو ہٹانے اور درگاہ کی پاکی صفائی اور یہاں آنے والے زائرین کو بہتر سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے وقف بورڈ کا بھرپور تعاون کیا۔ کرناٹک میں نئے وقف ایکٹ 2014 کے نفاذ میں سابق مرکزی وزیر ڈاکٹر کے رحمن خان کے تعاون پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے چیرمین نے کہاکہ اس قانون کی بدولت آج اوقاف پر غیر قانونی قبضوں کوآسانی سے ہٹایا جارہاہے۔ انہوں نے بتایاکہ اوقافی اداروں کے انتظامیہ کے سلسلے میں وقف بورڈ نے پچھلے دو سال کے دوران یکساں اسکیم رائج کی ہے، بحیثیت وقف ادارہ اندراج کیلئے شرائط میں بھی کافی آسانی پیدا کی گئی ہے۔ ریاست بھر میں ائمہ وموذنین کو وقف بورڈ کے ذریعہ وظائف کی فراہمی کے سلسلے میں انہوں نے سابق وزیر ڈاکٹر قمر الاسلام کا شکریہ ادا کیا۔ اور کہاکہ سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق اس اسکیم کو نافذ کیا گیا ۔ ریاست بھر میں دس ہزار مساجد کے ائمہ وموذنین کو اس اسکیم سے استفادہ کی سہولت شروع کی گئی۔ فی الوقت ائمہ کو سالانہ 36ہزار اور موذنین کو 28؍ ہزار روپیوں کاوظیفہ مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ضلع وقف مشاورتی کمیٹیوں کے عہدے جو محض نام ونمود تک محدود ہوگئے تھے، بحیثیت چیرمین انہوں نے ان کمیٹیوں کی ذمہ داریاں وضع کرتے ہوئے سرکیولر جاری کیا ہے۔ ضلعی سطح پر اوقافی املاک کی نگرانی اور ان کے تحفظ کیلئے جدوجہد کرنا ضلع وقف مشاورتی کمیٹیوں کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ انہوں نے بتایاکہ ریاستی حکومت نے اگلے 45دنوں کے اندر وقف بورڈ کے انتخابات کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ بورڈ کیلئے رکن پارلیمان ، رکن ا سمبلی ، بارکونسل رکن اور متولی زمروں سے انتخابات کا نوٹی فکیشن عنقریب جاری کئے جانے کی توقع ہے۔ انہوں نے بتایاکہ 16 اگست کو موجودہ وقف بورڈ کی آخری میٹنگ منعقد کی گئی۔ پچھلے پانچ سال کے دوران بورڈ کی 30میٹنگیں ہوئی ہیں، اور تمام میٹنگوں میں انہیں حاضر رہنے کا موقع ملا ہے۔ انہوں نے بتایاکہ اوقافی املاک سے متعلق سپریم کورٹ میں 9مقدمات زیر سماعت تھے جن میں سے ایک وقف بورڈ نے جیت لیا ہے۔ہائی کورٹ میں 257 کیس زیر سماعت تھے، ان میں سے 47 کیس نمٹائے جاچکے ہیں اور 210 زیر سماعت ہیں۔ وقف ٹریبونل میں465 کیس ہیں ، ان معاملات کو فاسٹ ٹریک عدالت کے طرز پر تیزی سے نمٹانے کیلئے ٹریبونل میں تین ججس مقرر کئے گئے ہیں ہر مقدمہ کو دو ماہ میں نمٹالیا جائے گا۔اوقافی املاک پر غیر قانونی قبضہ جات کے 1196 معاملات چیف ایگزی کیٹیو آفیسر کے سامنے زیر سماعت ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست بھر میں 29044اوقافی ادارے ہیں اور ان کے تحت 34504 اوقافی جائیدادیں چلائی جارہی ہیں۔ اوقافی املاک کے ثانوی سروے کے تحت 19547 اوقافی جائیدادوں کا سروے پورا کرلیا گیا ہے، جبکہ 14957 جائیدادوں کا سروے ہونا باقی ہے۔متولیان کی طرف سے اگر ان جائیدادوں کے متعلق دستاویزات بروقت فراہم کئے جائیں تو اس سروے کو تیزی سے پورا کیا جاسکتاہے۔اس موقع پر مختلف ضلع وقف مشاورتی کمیٹیوں کے صدور بشمول سید شجاع الدین بنگلور اربن، ایس بی باشا، بنگلور رورل، بی ایس رفیع اﷲ چکبالاپور، محمد عبیداﷲ شریف، چیرمین درگاہ حضرت مانک شاہ سوتے شاہ کمیٹی اور دیگر نے ڈاکٹر یوسف کو ان کی میعاد مکمل ہونے پر تہنیت پیش کی۔ 


Share: